اندور، 25؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اندور کے ضلع انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ سال 1984کے سکھ مخالف فسادات کے دو متاثرین کو ہوئے مالی نقصان کے بدلے سود سمیت معاوضہ ادا کرے۔اس کے ساتھ ہی عدالت نے ریاستی حکومت پر 25-25ہزارروپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ہائی کورٹ کی اندور بنچ کے جسٹس ایس سی شرما نے سرجیت سنگھ(67)اور شرن سنگھ(68)کی درخواستوں پر 17اگست کو اس ارادے کا حکم جاری کیا۔اندور رہائشی فساد متاثرین کے وکیل ہمانشو جوشی نے آج نامہ نگاروں کو بتایا کہ سال 1984کے سکھ مخالف فسادات کے دوران شہر میں سرجیت سنگھ کی لکڑی کی ٹال کو آگ لگا دی گئی، جبکہ شرن سنگھ کی شراب کی سرکاری سٹور لوٹ لی گئی تھی لیکن دونوں کو صرف اس بنیاد پر معاوضہ نہیں دیا جا رہا تھا، کیونکہ ان کے نام فساد متاثرین کی سرکاری فہرست میں درج نہیں ہو پائے تھے۔عدالت نے ریکارڈ پر دستیاب ثبوتوں کے مشاہدے کے بعد سرجیت سنگھ اور شرن سنگھ کو فساد میں متاثر قرار دیا اور ضلع مجسٹریٹ کو حکم دیا کہ وہ دونوں درخواست گزاروں کی املاک کو ہوئے نقصان کے بدلے میں انہیں 8.5فیصد کے سالانہ سود سمیت معاوضہ دیں۔سود کا حساب سال 1984سے کیا جائے۔ایک بنچ نے ضلع مجسٹریٹ کو حکم دیا کہ وہ اس کے حکم پراسٹیٹس رپورٹ ہائی کورٹ کے پرنسپل رجسٹرار کو 90دن کے اندر اندر سونپیں۔عدالت نے اپنے حکم میں یہ تاکید بھی کی کہ اگر دونوں فساد متاثرین کو طے مدت میں سود سمیت معاوضہ نہیں دیا جاتا ہے، تو ایک رکنی بنچ خود نوٹس لے کر ریاستی حکومت کے خلاف کورٹ کی توہین کی کارروائی شروع کر دے گی۔